Map News

ملک بھر میں ماڈل پناہ گاہیں قائم کرنے اور زائرین کیلیے فیری سروس شروع کرنے کی منظوری

اسلام آباد(میپ نیوز) وفاقی كابینہ نے سندھ میں رینجرز كے اختیارات میں ایک سال كی توسیع، مختلف ممالک جانے والے زائرین كے لیے فیری سروس شروع كرنے، ماڈل پناہ گاہوں کو ملک بھر میں پھیلانے اور پورٹ قاسم پر نئے ایل این جی ٹرمینل كی تعمیر كے حوالے سے این او سی جاری كرنے كی منظوری دے دی۔ایکسپریس نیوز کے مطابق كابینہ كو بتایا گیا كہ كم كاركردگی والے پاور پلانٹس كو بند كیا جا رہا ہے، اس فیصلے كے تحت 1479 میگا واٹ كے پلانٹس كو فوری طور پر بند كیا جا رہا ہے جبكہ 1460 میگا واٹ كے پلانٹس جن كی كاركردگی خراب ہے انہیں بند كر دیا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے چیف كمشنر اور آئی جی اسلام آباد كو ہدایت دی كہ ساجد گوندل كی بازیابی كے لیے ہر ممكن كوشش كی جائے۔ كابینہ نے اس حوالے سے اعلیٰ سطح كی كمیٹی تشكیل دی ہے تاكہ وہ ان واقعات كا جائزہ لے کر ان كے مستقل تدارک كے لیے سفارشات پیش كرے۔ كمیٹی میں وزیرِ قانون، مشیر داخلہ، چیف كمشنر، آئی جی اسلام آباد اور دیگر شامل ہیں۔اجلاس میں حالیہ بارشوں كے نتیجے میں ملک كے مختلف حصوں بشمول سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب كے چند علاقوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان خصوصاً اندرون سندھ ہونے والی تباہ كاریوں اور فصلوں كو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش كا اظہار كیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے كہا كہ این ڈی ایم اے كو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے كہ صوبائی حكومتوں سے مل کر ملک كے مختلف حصوں میں ہونے والے نقصانات كا جائزہ لیا جائے تاكہ متاثرین كو ریلیف كی فراہمی كے حوالے سے جامع حكمت عملی ترتیب دی جاسكے۔كراچی ٹرانسفارمیشن پلان اور كراچی كے مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ كراچی ملكی معیشت كے لیے انجن آف گروتھ كا كردار ادا كرتا ہے، كراچی كی ترقی ملک كی ترقی ہے لہذا وفاقی حكومت كراچی كے مسائل كے حل كے ضمن میں اپنا كردار ادا كرنے كے حوالے سے پر عزم ہے۔وفاقی كابینہ كو بتایا گیا كہ موجودہ حكومت كے دور میں میڈیا كے بقایا جات كے ضمن میں 1.16 ارب روپے واجب الادا تھے۔ وزیرِ اعظم كی ہدایت پر تمام سركاری محكموں كی جانب سے ادائیگی كا عمل شروع كیا گیا اور اب تک ایک ارب روپے سے زائد رقم ادا كی جا چكی ہے۔اجلاس میں كابینہ نے كابینہ كمیٹی برائے قانون سازی كے دائرہ اختیار میں توسیع كی منظوری دی۔ اس كے تحت كابینہ كمیٹی برائے قانون سازی كو یہ اختیار دیا گیا ہے كہ وہ اس امر كا جائزہ لے كہ مجوزہ قانون یا موجود قانون میں مجوزہ ترمیم دیگر قوانین اور آئین سے مطابقت ركھتی ہے اور پارلیمنٹ كے دائرہ اختیار میں ہے۔ اس كے ساتھ ساتھ كمیٹی اس امر كے حوالے سے بھی سفارشات پیش كرے گی كہ كسی نئے قانون، قواعد یا موجود قانون میں ترامیم حكومت كی پالیسیوں اور آئینی اور قانون كے مطابق ہیں۔ اگركسی معاملے پر كمیٹی اور متعلقہ وزارت كی آرا مختلف ہوں گی تو معاملہ كابینہ كے سامنے پیش كیا جائے گا۔كابینہ نے قیصر عالم كو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیكنڈری ایجوكیشن تعینات كرنے كی منظوری دی ساتھ ہی ایم ڈی بیت المال كی مدت ملازمت میں توسیع دے دی۔پورٹ قاسم پر ایل این جی كے نئے ٹرمینل كی تعمیر كے حوالے سے كابینہ نے فیصلہ كیا ہے كہ پورٹ قاسم پر نئے ایل این جی ٹرمینل كی تعمیر كے حوالے سے این او سی كا اجرا كیا جائے گا۔ اس كے ساتھ ساتھ پٹرولیم ڈویژن كی جانب سے اس امر كو یقینی بنایا جائے گا كہ موجودہ پائپ لائن میں ’’پہلے آئے پہلے پایئے‘‘ كی بنیاد پر اور نئی گیس پائپ لائن میں نئے ٹرمینل كے آپریٹرز كو كوٹا دیا جائے گا۔ كابینہ نے وزارتِ بحری امور كو ہدایت دی كہ مستقبل كے حوالے سے جامع لائحہ عمل بھی كابینہ كو پیش كیا جائے۔كابینہ نے زائرین كی سہولت كے لیے فیری سروس كے آغاز كی منظوری دی۔ اس مقصد كے لیے كراچی، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ پر متعلقہ پورٹ اتھارٹیز كی جانب سے مسافروں كی سہولت كے لیے امیگریشن، كسٹم سمیت تمام سہولیات فراہم كی جائیں گی۔نیشنل الیكٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی كی سالانہ رپورٹ برائے 2018-19ء اور اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2019ء كابینہ كے سامنے پیش كی گئی۔ كابینہ نے اس بات پر زور دیا كہ آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات كے نتیجے میں مستقبل كے لائحہ عمل كے حوالے سے اقدامات كیے جائیں تاكہ عوام كو ریلیف فراہم كیا جا سكے۔وزیرِ منصوبہ بندی نے توانائی كے شعبے میں كی جانے والی اصلاحات كے حوالے سے كابینہ كو بریفنگ دیتے ہوئے كہا كہ قابل تجدید توانائی كے حوالے سے پالیسی جو اپریل 2019ء سے التوا كا شكار تھی بالآخر منظور كرا لی گئی ہے۔ كابینہ كو بتایا گیا كہ كم كاركردگی والے پاور پلانٹس كو بند كیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے كے تحت 1479 میگا واٹ كے پلانٹس كو فوری طور پر بند كیا جا رہا ہے جبكہ 1460 میگا واٹ كے پلانٹس كو جن كی كاركردگی خراب ہے ستمبر تک بند كر دیا جائے گا۔كابینہ كو بتایا گیا كہ ماضی كی حكومت نے مہنگی گیس خریدتے ہوئے چند پاور پلانٹس كو پابند كیا كہ وہ لازمی گیس خریدیں اور اس وجہ سے انہیں خریدا گیا تاہم اس حوالے سے ان كی كاركردگی كو مد نظر نہیں ركھا گیا۔ اجلاس كو بتایا گیا كہ اب یہ شرط ختم كی جا رہی ہے۔ كابینہ كو بتایا گیا كہ كراچی میں بجلی كی كمی كو پورا كرنے كے لیے كے الیكٹرک کی استعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے عمل آئندہ تین سال میں مكمل ہو جائے گا۔كابینہ كو بتایا گیا كہ فوری طور پر 300 سے 400 میگا واٹ كے الیكٹرک كی كپیسیٹی میں شامل كیا جا رہے ہیں۔ مزید یہ كہ كے الیكٹرک كے ماہانہ نقصانات كم كرنے كے حوالے سے بھی اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ كابینہ كو بتایا گیا كہ آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات كے نتیجے میں ہر سال 100 ارب سے زائد روپے كی بچت ہوگی۔دریں اثنا كابینہ نے اقتصادی رابطہ كمیٹی كے 27 اگست 2020ء كے اجلاس اور كابینہ كمیٹی برائے توانائی كے 27 اگست 2020ء كے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں كی تو ثیق كی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

اہم خبریں

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2024 Map News. All Rights Reserved