Map News

سندھ حکومت نے جزائر کی ملکیت پر صدارتی آرڈیننس کو غیرآئینی و غیرقانونی قرار دے دیا

کراچی(میپ نیوز) سندھ حکومت نے آئی لینڈ پر وفاقی حکومت سے آئندہ کسی قسم کی بات نہ کرنے اور اس ضمن میں وفاق کو لکھا گیا خط واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس غیرآئینی اور اور غیرقانونی ہے۔یہ بات سندھ حکومت کے ترجمان اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ان کے ساتھ وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ بھی موجود تھے۔بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 172 کے تحت ساحلوں سے ملحق زمین صوبے کی ملکیت ہے، آئی لینڈ صوبائی ملکیت ہیں وفاقی نہیں، یہ آرڈیننس جاری کر کے وفاق نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جو زمین وفاق کی ملکیت نہیں اس پر آرڈیننس جاری ہوا کیوں کہ سندھ و بلوچستان کے آئی لینڈز صوبائی ملکیت ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کو مسترد کردیا ہے، آئی لینڈز سے متعلق صدارتی آرڈیننس سندھ کے حقوق پر قبضہ ہے، وفاقی حکومت آرڈیننس کو فوری واپس لے، یہ بدنیتی ہے کہ آرڈیننس دو ستمبر کو جاری ہوا اور ظاہر اب کیا گیا۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ کابینہ نے آئین پاکستان کی روشنی میں فیصلہ کیا ہے کہ سمندری علاقوں کے جزائر سندھ حکومت اور عوام کی ملکیت ہیں، صدر مملکت کا آئس لینڈ آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ آئینی اور اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، سندھ حکومت نے آئی لینڈ پر وفاقی حکومت سے آئندہ کسی قسم کی بات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اب سندھ کابینہ نے پہلے وفاق کو لکھا گیا خط واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اب سندھ حکومت آئندہ وفاقی حکومت سے آئی لینڈ سے متعلق کوئی بات نہیں ہوگی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

اہم خبریں

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2024 Map News. All Rights Reserved