Map News

نوازشریف کے وارنٹس کی تعمیل؛اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا جواب داخل

اسلام آباد(میپ نیوز) برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے افسران نے نوازشریف کے وارنٹس کی تعمیل کے سلسلے میں اپنے تحریری بیان اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیئے ہیں۔العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس اپیلوں میں نوازشریف کے وارنٹس کی تعمیل کرانے میں شامل پاکستانی ہائی کمیشن لندن کے افسران کے تحریری بیانات سامنے آ گئے ہیں۔ نوازشریف کے وارنٹس کی دو دفعہ ذاتی حیثیت میں تعمیل کرانے اور ایک دفعہ رائل میل کے ذریعے کوشش کی گئی۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن کے فرسٹ سیکرٹری دلدار علی ابڑو اور راو عبدالحنان کا بیان اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا گیا ہے۔پاکستانی ہائی کمیشن لندن کے فرسٹ سیکرٹری دلدار علی ابڑو نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف کے بیٹے کے سیکرٹری وقار احمد نے مجھے کال کی اور کہا کہ وہ نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری وصول کریں گے، وقار احمد کے مطابق وہ نواز شریف کی موجودہ رہائش گاہ پارک لین لندن میں وارنٹس وصول کرے گا، میں نے وقار کو کہا کہ ہیڈ آف مشن سے منظوری کے بعد میں آپ کا آگاہ کروں گا۔دلدار علی ابڑو نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ وارنٹس کی تعمیل سے متعلق وقار کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے حوالے سے ہائی کمشن کو آگاہ کیا، ہائی کمیشن سے وارنٹس کی وقار کی جانب سے دیئے گئے پتہ پر وارنٹس کی تعمیل کی اجازت لی، ہائی کمشن نے مجھے نواز شریف کے وارنٹس اس پتہ پر تعمیل کرانے کی اجازت دے دی، اس کے بعد وقار کے ساتھ اتفاق ہوا کہ وہ 23 ستمبر کو دن گیارہ بجے وارنٹس وصول کریں گے، وقار کو بتایا کہ قونصلر اتاشی راؤ عبدالحنان وارنٹس کی تعمیل کے لیے آئیں گے، برطانیہ کے وقت کے مطابق 10 بجکر 20 منٹ پر وقار نے مجھے کال کرکے وارنٹس وصولی سے معذرت کرلی۔پاکستان ہائی کمیشن لندن کے قونصلر اتاشی راؤ عبدالحنان نے بھی تحریری بیان میں کہا ہے کہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے نواز شریف کی رہائش گاہ گیا، لندن میں نوازشریف کی رہائش گاہ پر 17 ستمبر کو شام 6 بج کر 35 منٹ پر گیا، نواز شریف کے ذاتی ملازم محمد یعقوب نے وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کیا، نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی بائی ہینڈ تعمیل نہیں ہو سکی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

اہم خبریں

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2024 Map News. All Rights Reserved