Map News

ٹیکس ریکوری کیلیے ایف بی آر کو بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار بحال

کراچی(میپ نیوز) ایف بی آر نے ملک بھر کے فیلڈ فارمشنز کو ٹیکس دہندگان سے واجبات کی ریکوری کے لیے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے اختیارات بحال کردیئے۔ایف بی آر کے مطابق فیلڈ فارمشنز کے لیے ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے 24 گھنٹے قبل متعلقہ ٹیکس دہندہ ادارے یا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، پرنسپل آفیسر یا مالک کو آگاہ کرنے کی شرط ختم کردی ہے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے چیئرمین ایف بی آر سے پیشگی منظوری لینے کی شرط بھی واپس لے لی ہے۔اس حوالے سے ’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے ملک بھر کے تمام فیلڈ فارمشنز کو مراسلے ارسال کردیئے ہیں جس میں ایف بی آر نے تمام دفاتر کے چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو سے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان سے ٹیکس واجبات کی ریکوری کے لیے پانچ مئی 2019ء اور دس اکتوبر 2019ء کو لکھے جانے والے لیٹرز میں ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے 24 گھنٹے پہلے متعلقہ ٹیکس دہندہ ادارے یا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، پرنسپل آفیسر یا مالک کو آگاہ کرنے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے چیئرمین ایف بی آر سے پیشگی منظوری لینے کی ہدایات واپس لے لی گئی ہیں۔ایف بی آر کے مطابق اب فیلڈ فارمشنز و ٹیکس حکام کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی سیکشن 140 کے تحت حاصل اختیارات بحال کردیئے گئے ہیں اسی طرح سیلز ٹیکس میں بھی دو اپریل 2020 کو جاری کردہ ایس آر او نمبری 274(I)/2020 کے تحت حاصل اختیارات اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کی سیکشن 48 کے تحت حاصل اختیارات معمول کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں اس بارے میں ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ صنعت کار و تاجر برادری کے مطالبے پر مذکورہ لیٹرز کے ذریعے ایف بی آر کی فیلڈ فارمشنز کو ٹیکس دہندگان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے متعلق ہدایات جاری کی گئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی ٹیکس افسر کو یا فیلڈ فارمشنز کو کسی بھی ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا ہوں گے تو اس کے لیے اکاونٹس منجمد کرنے سے 24 گھنٹے قبل متعلقہ ٹیکس دہندہ آفس کے سی ای او، پرنسپل آفیسر یا مالک کو آگاہ کرنا ہوگا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

اہم خبریں

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2021 Map News. All Rights Reserved