Map News

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں حفاظتی ضمانت منظور،جیل جانے کو تیار ہوں:عمران

اسلام آباد(میپ نیوز) ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اسلام آباد آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلیدوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ خصوصی عدالت ایف آئی اے کی اس درخواست کو کیوں نہیں سن رہی ؟ ، جس پر ایڈیشل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے بتای اکہ فارن ایکسچینج ریگولیشن کی ایک دفعہ لگی ہوئی ہے، وہ سیشن جج کا بھی اختیار بنتا ہے۔ اس اسٹیج پر خصوصی عدالت ضمانت کی درخواست سن سکتی ہےچیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کر لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست زیر التوا رکھتے ہیں، اگر ایشو حل نہ ہوا تو دوبارہ سن لیں گےبعد ازاں عدالت نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت پانچ ہزار روپے مچلکوں کے عوض منگل تک منظور کرلی اور ایف آئی اے کو عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت نے کہا کہ آپ متعلقہ عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری دائر کر سکتے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔ بعد ازاں عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ سے روانہ ہو گئے۔قبل ازیں ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمے کی سماعت میں دلائل دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ عمران خان کے 2 شریک ملزمان نے ضمانت کے لیے بینکنگ کورٹ سے رجوع کیا، بینکنگ کورٹ اور سپیشل جج سینٹرل دونوں عدالتوں نے سننے سے معذرت کی۔وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے خیال میں ممنوعہ فنڈنگ کیس کون سی عدالت میں جانا چاہیے؟۔ جس پر وکیل نے جواب دیا ممنوعہ فنڈنگ کیس اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت جانا چاہیےچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران خان کہاں ہیں ؟ پیش کیوں نہیں ہوئے ؟ جس پر وکیل نے کہا کہ عدالت حکم کرے تو عمران خان فوری عدالت پیش ہوجائیں گے۔ بنی گالہ میں پولیس نے عمران خان کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔اسلام آبادہائیکورٹ نے عدالت پیشی تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انتظامیہ عمران خان کو ہراساں بھی نہ کرے۔عمران خان کی ہائی کورٹ میں پیشی سے قبل سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، بعد ازاں عمران خان کو سخت سکیورٹی کے حصار میں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔واضح رہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان نے ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، اس سلسلے میں دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف آئی اے نے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے ۔ عدالت حفاظتی ضمانت منظور کرے تاکہ متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکیں۔ عمران خان کی درخواست میں آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی تھی۔دریں اثنا اسسٹنٹ رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ اسد خان کی جانب سے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر 3 اعتراضات عائد کیے گئے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے بائیو میٹرک نہیں کرائی، ایف آئی آر کی غیر مصدقہ نقل لگائی گئی ہے جب کہ خصوصی عدالت میں جانے سے پہلے ہائی کورٹ کیسے آسکتے ہیں۔بعد ازاں عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اعتراضات کے ساتھ ہی درخواست پر سماعت کی استدعا کی، جسے منظور کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے مقرر کرلی گئی تھی۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے موقع پر عدالت میں پیشی سے قبل صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ اگر ضمانت نہ ہوئی تو کیا ہو گا ؟، جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ میں نے تیاری کررکھی ہے، میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں ۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم ہوتے ہوئے آپ کو پتا تھا کہ فون ٹیپ ہوتے ہیں ؟۔ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ سرویلنس تو ہوتی ہے،یہ نیشنل سکیورٹی کا ایشو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انصار عباسی نے 3 ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ میری اور اعظم خان کی آڈیو موجود ہے۔ ایجنسیز کا کام وزیر اعظم کی پروٹیکشن ہوتا ہے۔کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ آپ کو آڈیو ریکارڈ ہونے پر اعتراض ہے یا ریلیز ہونے پر؟۔ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ وزیر اعظم کی سرویلنس پوری دنیا میں ہوتی ہے، مگر ٹارگٹڈ ریکارڈنگ نہیں ہوتی۔ جب تک طاقتور کو قانون کے نیچے نہیں لائیں گے، انصاف قائم نہیں ہو گا۔صحافی نے سوال کیا کہ سوات میں صورت حال خراب ہے، وزیراعلیٰ صوبے میں نہیں جا رہے، جس پر عمران خان نے کہا کہ یہ وفاق کا معاملہ ہے ۔ سوات میں حالات تشویش ناک ہیں۔ پختونخوا حکومت کب سے وفاق کو بتا رہی تھی۔ قبل ازیں صحافی نے سوال کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ حکومت آپ کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، جس پر عمران خان نے کہا کہ ہو سکتا ہےایک سوال کہ ن لیگ کہہ رہی ہے آپ کو بھگا بھگا کر ماریں گے، کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میرا اسٹیمنا شریفوں سے زیادہ ہےفارن فنڈنگ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ صرف ایک سیاسی جماعت کی لیگل فنڈنگ ہے اور وہ ہے تحریک انصاف۔دیگر سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ دو نمبر ہے۔ افسوس کی بات ہے چیف الیکشن کمشنر دیگر سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ سامنے نہیں لا رہے ۔ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے سب کی فنڈ ریزنگ کا کیس اکھٹا سنا جائے۔ چیف الیکشن کمشنر ان کے گھر کا اور متعصب آدمی ہے۔ اگر الیکشن کمشنر دیگر سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ سامنے لے آئے تو معلوم ہو جائے گا کہ کس کی فنڈنگ لیگل ہےصحافی نے سوال کیا کہ طاقت ور لوگ کون ہیں؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ یہی این آر او والے ۔ آپ اعتزاز احسن کا بیان دیکھ لیں۔ ایجنسیوں کا یہ کام نہیں کہ فون ٹیپ کر کے اسے ریلیز کیا جائے۔ عارف علوی نے اپنے بیان کی وضاحت کر دی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

اہم خبریں

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2024 Map News. All Rights Reserved